Curriculum
پاکستان کے نظامِ تعلیم میں اصلاح کی ضرورت | قومی تعلیمی کانفرنس میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا خطاب
پاکستان کے نظامِ تعلیم میں بنیادی تبدیلی وقت کی اہم ضرورت
کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی انحصار اس کے نظامِ تعلیم پر ہوتا ہے۔ ایک مؤثر تعلیمی نظام نہ صرف طلبہ کو علمی قابلیت فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں اخلاقی، سماجی اور عملی زندگی کے لیے بھی تیار کرتا ہے۔
پاکستان کے موجودہ نظامِ تعلیم اور اس میں درکار بنیادی اصلاحات کے حوالے سے اہم گفتگو منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ پہلی قومی تعلیمی کانفرنس میں سامنے آئی، جہاں پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ملک کے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
موجودہ نظامِ تعلیم میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ موجودہ نظامِ تعلیم میں معمولی اصلاحات کرنے کے بجائے اس کے بنیادی ڈھانچے کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کے تعلیمی نظام کو ایسی نئی بنیادوں پر استوار کیا جانا چاہیے جو موجودہ دور کے تقاضوں، قومی ضروریات اور طلبہ کی عملی زندگی کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔
انہوں نے اس حوالے سے فن لینڈ، سنگاپور، جاپان اور چین کے تعلیمی نظاموں کا مطالعہ کرنے اور ان کی کامیابی کے عوامل کو پاکستان کے تعلیمی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو صرف ڈگریاں فراہم نہ کرے بلکہ نوجوانوں کو عملی زندگی، روزگار، تحقیق، تخلیقی صلاحیت اور قومی خدمت کے لیے تیار کرے۔
فنی تعلیم اور عملی مہارتوں پر توجہ کیوں ضروری ہے؟
پاکستان کے تعلیمی نظام میں ایک اہم مسئلہ اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلا بھی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی ماڈلز کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد روایتی یونیورسٹی تعلیم کے بجائے Technical and Vocational Education کے ذریعے عملی مہارتیں حاصل کرتی ہے اور پھر براہِ راست عملی زندگی میں داخل ہوتی ہے۔
پاکستان میں بھی فنی تعلیم، ہنر مندی اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق Skills Development کو تعلیمی پالیسی کا اہم حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔
ایسا نظام نوجوانوں کو صرف ڈگری ہولڈر بنانے کے بجائے قابلِ روزگار اور پیداواری افرادی قوت میں تبدیل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
نصاب، تدریس اور استاد کی تربیت بنیادی ستون ہیں
کسی بھی تعلیمی نظام کی کامیابی کا انحصار صرف نصاب پر نہیں ہوتا۔ ایک مؤثر نظامِ تعلیم کے لیے کم از کم تین بنیادی عناصر انتہائی اہم ہیں:
معیاری اور بامقصد نصاب
جدید اور مؤثر تدریسی طریقۂ کار
تربیت یافتہ اور باصلاحیت اساتذہ
کانفرنس سے خطاب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگر نصاب جدید ہو لیکن استاد کی تربیت مؤثر نہ ہو تو تعلیمی معیار میں مطلوبہ بہتری حاصل نہیں کی جا سکتی۔
اسی طرح استاد کو صرف کتاب مکمل کروانے کے بجائے طلبہ میں سوچنے، سوال کرنے، مسئلہ حل کرنے، تحقیق کرنے اور عملی مہارتیں حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے تربیت دینا ضروری ہے۔
اساتذہ کی تربیت اور مانیٹرنگ کا مضبوط نظام
تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ کی Training اور Monitoring کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر میکنزم تشکیل دیا جانا چاہیے۔
اساتذہ کی تربیت صرف ابتدائی تقرری تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں جدید تدریسی تکنیک، Classroom Management، Child Psychology، Assessment Techniques اور Technology-Integrated Learning کے حوالے سے مسلسل تربیت فراہم کی جانی چاہیے۔
ایک مضبوط Teacher Development System ہی تعلیمی اداروں میں تدریس کے معیار کو مستقل طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔
اسلامی اقدار اور اخلاقی تربیت تعلیم کا لازمی حصہ
تعلیم کا مقصد صرف امتحانات میں کامیابی یا ڈگری کا حصول نہیں ہونا چاہیے۔ ایک جامع نظامِ تعلیم طلبہ کی اخلاقی اور کردار سازی پر بھی توجہ دیتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے تعلیمی اداروں میں قرآن و سنت کی تعلیم اور اسلامی اقدار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اخلاقی تربیت کو تعلیمی نظام کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق تعلیم کے ذریعے نئی نسل میں دیانت داری، ذمہ داری، اعتدال، احترام، برداشت، خدمتِ خلق اور حسنِ اخلاق جیسی صفات پیدا کرنا ضروری ہے۔
یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک باصلاحیت فرد کو ایک ذمہ دار شہری اور مفید انسان بناتے ہیں۔
حب الوطنی اور قومی شعور کی تعلیم
تعلیمی نصاب میں قومی شعور اور حب الوطنی کے جذبے کو بھی مناسب اہمیت دینا ضروری ہے۔
طلبہ کو پاکستان کی تاریخ، قومی جدوجہد، ثقافت، آئینی ذمہ داریوں اور قومی اقدار سے آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ ان میں اپنے ملک کے لیے ذمہ داری اور مثبت کردار کا احساس پیدا ہو۔
حب الوطنی کا مقصد صرف جذبات پیدا کرنا نہیں بلکہ طلبہ کو یہ سمجھانا بھی ہے کہ ایک اچھا شہری اپنے ملک کی ترقی، قانون کی پاسداری، معاشرتی ذمہ داری اور مثبت کردار کے ذریعے قوم کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے۔
تعلیمی بجٹ میں اضافہ اور ترجیحات کا ازسرِنو تعین
تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے مناسب مالی وسائل بھی ضروری ہیں۔
کانفرنس سے خطاب میں تعلیمی بجٹ میں اضافے اور فنی تعلیم پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
پاکستان کو ایسا تعلیمی بجٹ درکار ہے جو صرف عمارتوں اور انتظامی اخراجات تک محدود نہ ہو بلکہ اساتذہ کی تربیت، جدید نصاب، ٹیکنالوجی، تحقیق، فنی تعلیم، لائبریریوں اور طلبہ کی عملی مہارتوں پر بھی مؤثر انداز میں خرچ ہو۔
ابتدائی تعلیم میں اخلاقی تربیت کی اہمیت
جاپان کے تعلیمی نظام کی مثال دیتے ہوئے بچوں کی ابتدائی تربیت میں اخلاقی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
ابتدائی عمر میں بچوں کے اندر نظم و ضبط، دوسروں کا احترام، تعاون، صفائی، ذمہ داری اور اجتماعی زندگی کے آداب پیدا کرنا ان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تعلیم کے ابتدائی سال صرف نصابی معلومات منتقل کرنے کے لیے نہیں بلکہ بچے کی شخصیت اور کردار کی بنیاد مضبوط کرنے کے لیے بھی استعمال ہونے چاہئیں۔
بچوں کا دوسروں سے موازنہ نہیں، ان کی صلاحیتوں کی نشوونما ضروری ہے
بچوں کی تربیت میں والدین اور اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔
کانفرنس میں والدین اور اساتذہ کو یہ پیغام دیا گیا کہ بچوں کا مسلسل دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے ان کی انفرادی صلاحیتوں کو سمجھا جائے۔
ہر بچہ اپنی دلچسپی، قابلیت، شخصیت اور سیکھنے کے انداز کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسے مناسب رہنمائی اور مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کر سکے۔
بچوں میں مقابلے کے بجائے تعاون، ہمدردی اور ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ پیدا کرنا بھی ان کی سماجی اور اخلاقی تربیت کا اہم حصہ ہے۔
تعلیم اور سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی
اسلام نے علم کو ہمیشہ بنیادی اہمیت دی ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات میں علم کے حصول، غوروفکر، اخلاق اور انسانیت کی خدمت پر خصوصی توجہ ملتی ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے علم کے حصول کی ترغیب دی اور تعلیم و تربیت کے ذریعے انسان کے کردار کو بہتر بنانے کی عملی مثال پیش کی۔
اسلامی تصورِ تعلیم میں علم محض معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ ایسا علم مطلوب ہے جو انسان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلائے، اس کے کردار کو بہتر کرے اور اسے معاشرے کے لیے مفید بنائے۔
اسی لیے پاکستان کے تعلیمی نظام میں علم، کردار، اخلاق اور عملی مہارت کو ایک جامع تعلیمی تصور کے طور پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
نسلوں کی تعمیر کے لیے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا ہوگا
کسی بھی ملک کا مستقبل اس کے تعلیمی اداروں میں تشکیل پاتا ہے۔ آج کے طلبہ ہی کل کے اساتذہ، ڈاکٹرز، انجینئرز، محققین، کاروباری افراد، منتظمین اور قومی قیادت کا حصہ بنیں گے۔
اگر تعلیمی نظام انہیں صرف امتحان اور ڈگری کے لیے تیار کرے گا تو معاشرے کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں ایسا جامع تعلیمی نظام تشکیل دیا جائے جو:
معیاری اور جدید نصاب فراہم کرے۔
اساتذہ کی مسلسل تربیت یقینی بنائے۔
فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دے۔
طلبہ میں عملی مہارتیں پیدا کرے۔
اسلامی اور اخلاقی اقدار کو فروغ دے۔
حب الوطنی اور قومی ذمہ داری کا شعور پیدا کرے۔
بچوں کی انفرادی صلاحیتوں کو اجاگر کرے۔
تحقیق، تخلیقی سوچ اور تنقیدی فکر کو فروغ دے۔
پہلی قومی تعلیمی کانفرنس میں ماہرینِ تعلیم کی شرکت
منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ پہلی قومی تعلیمی کانفرنس میں ملک بھر سے ماہرینِ تعلیم، تعلیمی اداروں کے سربراہان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
کانفرنس میں ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈاپور، صوبائی وزیرِ تعلیم گلگت بلتستان غلام شہزاد آغا، پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد، ڈاکٹر علی وقار قادری، ڈاکٹر شاہد سرویا، کاشف مرزا، ڈاکٹر وجاہت حسین، محمد شعیب طاہر، سید طفیل رضا بخاری، سید فہد کاظمی، بریگیڈیئر (ر) عمر حیات، نور اللہ صدیقی، جی ایم ملک، راجہ زاہد محمود، رانا وحید شہزاد، ڈاکٹر خرم شہزاد، عائشہ مبشر، عائشہ شبیر، شگفتہ جبیں اور عمارہ مقصود سمیت متعدد شخصیات نے شرکت کی۔
کانفرنس نے پاکستان میں تعلیم کے مستقبل، تعلیمی اصلاحات، اساتذہ کی تربیت، فنی تعلیم، اخلاقی تربیت اور قومی اقدار کے حوالے سے اہم مباحث کو اجاگر کیا۔
پاکستان کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک مشترکہ وژن کی ضرورت
پاکستان میں تعلیمی اصلاحات صرف حکومت یا تعلیمی اداروں کی ذمہ داری نہیں۔ اس عمل میں اساتذہ، والدین، نصاب ساز اداروں، تعلیمی ماہرین، پالیسی سازوں اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ایک مضبوط تعلیمی نظام وہی ہوگا جو جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنی قومی، تہذیبی اور اخلاقی بنیادوں کو بھی محفوظ رکھے۔
پاکستان کے نوجوانوں کو صرف ڈگری نہیں بلکہ علم، کردار، مہارت، خوداعتمادی اور قومی ذمہ داری کی ضرورت ہے۔
یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مضبوط اور ترقی یافتہ قوم کی تعمیر ممکن ہے۔
Laurel Publishers کا تعلیمی وژن
Laurel Publishers اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ معیاری نصاب بچوں کی علمی اور فکری نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ایک مؤثر نصاب صرف معلومات منتقل نہیں کرتا بلکہ طلبہ میں سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، تخلیقی صلاحیت استعمال کرنے اور عملی زندگی کے لیے تیار ہونے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔
اسی سوچ کے ساتھ معیاری اور بامقصد تعلیمی مواد کی تیاری ایک بہتر تعلیمی مستقبل کی جانب اہم قدم ہے۔
Laurel Publishers
Books That Build Brighter Futures
